ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاویری مسئلے پر وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ فوراً طلب کرنے سدرامیا کا مطالبہ

کاویری مسئلے پر وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ فوراً طلب کرنے سدرامیا کا مطالبہ

Sat, 10 Sep 2016 01:14:03    S.O. News Service

بنگلورو۔9/ستمبر(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ کاویری تنازعہ پر گفتگو کیلئے فوری طور پر کرناٹک تملناڈو، کیرلا اور پانڈیچری کے وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ طلب کریں۔ آج مودی کے نام ایک مکتوب میں وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کاویری طاس اور شہر بنگلور میں شورش کی صورتحال سے وزیر اعظم کو متوجہ کراتے ہوئے کہاکہ دریائے کاویری سے روزانہ تملناڈو کو پندرہ ہزار کیوسک پانی بین ریاستی سرحد بلیگنڈلو سے جاری کرنے کے سلسلے میں عدالت عظمیٰ نے جو عبوری حکم صادر کیا ہے اس سے شہریان بنگلور کیلئے پینے کا پانی اور کاویری طاس کے کسانوں کیلئے آبپاشی کی سہولت مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ تملناڈو کے مٹور ڈیم میں وافر مقدار میں پانی موجود ہے، اور وہاں شمال مشرقی مانسون عنقریب شروع ہونے والاہے، بارش سے جو پانی جمع ہوگا وہ سامبا فصلوں کیلئے کافی ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ 6/ ستمبر کو انہوں نے ایک کل جماعتی میٹنگ طلب کی جس میں بی جے پی قائدین نے سپریم کورٹ کا فیصلہ لاگو نہ کرنے کا مشورہ دیا، لیکن ریاست کے آئینی ذمہ دار ہونے کے ناطے وہ اس فیصلے پر عمل کرنے کیلئے مجبور ہیں۔اس فیصلے پر حکومت کی طرف سے عمل کے سبب ریاست میں بدامنی کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ اگر بدامنی کا یہی سلسلہ برقرار رہا تو ریاست بالخصوص راجدھانی بنگلور جو ملک کی آئی ٹی بی ٹی راجدھانی بھی کہلاتی ہے بری طرح متاثر ہوگی،اور اس سے ریاستی اور مرکزی حکومت کو جو آمدنی ہوتی ہے وہ بھی متاثر ہوگی۔ وزیراعظم سے سدرامیانے گذارش کی کہ ملک کے وفاقی نظام کے سربراہ ہونے کے ناطے وہ فوری طور پر کچھ گھنٹوں کی نوٹس پر متعلقہ وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ طلب کریں۔انہوں نے بتایاکہ 28 دسمبر 1995 کو سپریم کورٹ نے جب اس سلسلے میں فیصلہ سنایاتھا اس وقت کے وزیر اعظم نے وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ طلب کرکے اس معاملے کو سلجھانے کی کامیاب کوشش کی تھی۔وزیر اعلیٰ نے مسٹر مودی سے گذارش کی ہے کہ وہ بھی فوری طور پر وزرائے اعلیٰ کی ایک میٹنگ طلب کرکے کاویری تنازعہ کو سلجھانے کی کوشش کریں۔ 

کاویری مسئلے پر کرناٹک سے کھلی ناانصافی:کھرگے
 لوک سبھا میں کانگریس پارٹی کے لیڈر ملیکارجن کھرگے نے کہاکہ کاویری مسئلے پر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سپریم کورٹ نے کرناٹک سے ناانصافی کی ہے۔ آج بنگلور انٹرنیشنل ایرپورٹ پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عدالت نے دو ریاستوں کے ساتھ انصاف کرنے کی بجائے کاویری مسئلے پر یکطرفہ فیصلہ کیاہے۔ اور کرناٹک کے ساتھ کھلی ناانصافی ہوچکی ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے ناانصافی کے باوجود حکومت کرناٹک کی جانب سے تملناڈو کو پانی کی فراہمی کے فیصلے کو مجبوری قرار دیتے ہوئے مسٹر کھرگے نے کہاکہ حکومت عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو ماننے پر بے بس تھی۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے پہلے ہی یہ واضح کردیاہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظر ثانی کیلئے حکومت کرناٹک کی طرف سے دوبارہ عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے جب آنجہانی بنگارپا ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے تو آرڈیننس کے ذریعہ عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی کوشش کی تھی۔ بعد میں سپریم کورٹ نے حکومت کے اس آرڈیننس پر سرزنش کرتے ہوئے اس اقدام پر روک لگادی تھی۔ ایس ایم کرشنا کے دور اقتدار میں بھی کاویری مسئلے پر کرناٹک کے ساتھ کھلی ناانصافی ہوئی ہے۔ کاویری مسئلے پر کرناٹک کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل فالی ایس ناریمن کو ہٹاکر کسی اور کو ذمہ داری دینے کے متعلق مشوروں پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے مسٹر کھرگے نے کہاکہ ناریمن کو بدلنا ہے یا نہیں یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سدرامیا اور ریاستی حکومت پر چھوڑ دیاجائے۔ 

کاویری مسئلے پر دیوے گوڈا کی مودی سے ملاقات
 سابق وزیر اعظم اور جنتادل (ایس) سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈا نے آج شام دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے کرناٹک اور تملناڈو کے درمیان جاری کاویری تنازعہ کے سلسلے میں تبادلہئ خیال کیا۔ اس سے قبل آ صبح دیوے گوڈا نے کاویری مسئلے پر سپریم کورٹ میں کرناٹک کی پیروی کرنے والے وکیل فالی ایس ناریمن سے ملاقات کی اور اس مسئلے پر ریاستی حکومت کی قانونی جنگ پیش رفت کے بارے میں تبادلہئ خیال کیا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر دیوے گوڈا نے کہاکہ پچھلے پچاس سال سے کاویری مسئلے پر کرناٹک کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہوتی آئی ہے۔اس ناانصافی کو ختم کرنے کیلئے کسی نہ کسی کو مداخلت کرنی ہوگی۔ 


Share: